Archive | Aa-Hadees-e-Mubarka

Dajjal Ka Lashkar Black Water

Dajjal Ka Lashkar Black Water – Maulana Asim Umer

has just been added to our Ebook shelf, Click here to visit

Posted in Aa-Hadees-e-Mubarka, Articles, Columns, Dajjal, Dua, Ebooks, Fatwa, Fazaail, History of Islam, Ibrat, Lays Chips, Life of Hazrat Muhammad (S.A.W), News, Roz-e-Aakhrat, Uncategorized, Urdu Ebooks, mqm, signs of the last day, كتاب الفتن|Kitab-ul-Fitn, كتاب المناقبComments (13)

Dajjal

























Posted in Dajjal, كتاب الفتن|Kitab-ul-FitnComments (13)

كتاب المناقب

حضرت معاویہ بن ابی سفیان (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
میری امت میں ہمیشہ ایک گروہ ایسا موجود رہے گا جو اللہ تعالیٰ کی شریعت پر قائم رہے گا ، انہیں ذلیل کرنے کی کوشش کرنے والے اور اسی طرح ان کی مخالفت کرنے والے انہیں کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں گے یہاں تک کہ قیامت آ جائے گی اور وہ اسی حالت پر رہیں گے ۔
صحيح بخاري
كتاب المناقب
باب
حدیث : 3684
عربی متن :
http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=126&SW=3684#SR1

Posted in كتاب المناقبComments (0)

خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت ابوھریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے مکان بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی ۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟
تو مَیں ہی وہ اینٹ ہوں اور مَیں خاتم النبیین ہوں ۔
صحيح بخاري
كتاب المناقب
باب : خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم
حدیث : 3575

عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=126&SW=3575#SR1

Posted in كتاب المناقبComments (0)

اذا قال عند قوم شيئا ثم خرج فقال بخلافه

حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
قیامت کے دن ہر بدعہدی (عذر) کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا (علامتی نشان) نصب کر دیا جائے گا ۔ ہم نے اس شخص (یزید بن معاویہ) کی بیعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کی ہے ، میری نظر میں اس سے زیادہ بدعہدی اور کوئی نہیں کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے ۔
اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : اذا قال عند قوم شيئا ثم خرج فقال بخلافه
حدیث : 7196
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7196#SR1

Posted in كتاب الفتن|Kitab-ul-FitnComments (1)

لا ياتي زمان الا الذي بعده شر منه

زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ، انہوں نے کہا :
صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : لا ياتي زمان الا الذي بعده شر منه
حدیث : 7155
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7155#SR1

Posted in كتاب الفتن|Kitab-ul-FitnComments (0)

كيف الامر اذا لم تكن جماعة

حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا ، اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔
میں نے پوچھا :
یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہوگا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
میں نے پوچھا : کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، لیکن اس خیر میں کمزوری ہوگی۔
میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہوگی؟
فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے ، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔
میں نے پوچھا : کیا پھر دورِ خیر کے بعد دورِ شر آئے گا؟
فرمایا کہ ہاں ! جہنم کی طرف بلانے والے دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے ، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔
میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔
فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان عربی بولیں گے۔
میں نے پوچھا : پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
تلزم جماعة المسلمين وإمامهم
مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔
میں نے کہا :
فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟
اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟
فرمایا : پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو رہو خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : كيف الامر اذا لم تكن جماعة
حدیث : 7173
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7173#SR1

Posted in كتاب الفتن|Kitab-ul-FitnComments (1)

ظهور الفتن

حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں ، جہالت چھا جائے گی ، علم (دین) اُٹھ جائے گا اور ہرج یعنی خون ریزی عام ہو جائے گی۔

صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : ظهور الفتن
حدیث : 7150

عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7150#SR1

Posted in كتاب الفتن|Kitab-ul-FitnComments (0)

هلاك امتي على يدى اغيلمة سفهاء

حضرت عمرو بن یحییٰ بن سعید (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ مجھے میرے دادا سعید نے خبر دی کہ :
میں ابو ھریرہ (رضی اللہ عنہ) کے پاس مدینہ منورہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) کی مسجد میں بیٹھا تھا اور ہمارے ساتھ مروان بھی تھا ۔ ابو ھریرہ (رض) نے کہا کہ : میں نے صادق و مصدوق سے سنا ہے ، آپ (ص) نے فرمایا کہ میری امت کی تباہی قریش کے چند چھوکروں کے ہاتھ سے ہوگی ۔ مروان نے اس پر کہا : ان پر اللہ کی لعنت ہو ۔
ابو ھریرہ (رض) نے کہا کہ اگر میں ان کے خاندان کے نام لے کر بتلانا چاہوں تو بتلا سکتا ہوں ۔
پھر جب بنی مروان شام کی حکومت پر قابض ہو گئے تو میں اپنے دادا کے ساتھ ان کی طرف جاتا تھا ۔ جب میرے دادا نے وہاں نوجوان لڑکوں کو دیکھا تو کہا : شاید یہ انہی میں سے ہوں ۔
ہم (عمرو بن یحییٰ بن سعید) نے کہا کہ : آپ کو زیادہ علم ہے ۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : قول النبي صلى الله عليه وسلم ‏”‏ هلاك امتي على يدى اغيلمة سفهاء ‏”‏‏.
حدیث : 7145
عربی متن :
http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7145#SR1

Posted in Aa-Hadees-e-MubarkaComments (0)

كتاب الفتن

حضرت ابو بکرہ نفیع بن حارث رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ :
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

جب دو مسلمان اپنی اپنی تلواریں سونت کر ایک دوسرے کو ( مارنے کی نیت سے ) ملتے ہیں ( ایک دوسرے کے مقابل صف آراء ہوتے ہیں ) تو یہ قاتل اور مقتول دونوں جہنمی ہیں ۔
میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! قاتل کا جہنمی ہونا تو سمجھ میں آتا ہے ، مقتول جہنمی کیوں ہوگا ؟
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اس لیے کہ وہ بھی اپنے ساتھی (دوسرے مسلمان) کے قتل کا حریص تھا ۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : ١ذا التقى المسلمان بسيفيهما
حدیث : 7170
عربی متن :
http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198#s11

Posted in Aa-Hadees-e-Mubarka, NewsComments (0)

Advertise Here
  • Popular
  • Latest
  • Comments
  • Tags
  • Subscribe
Advertise Here

Blog Vitals

Blog Stats
Google Page Rank
498,699
180
943
1

wp