Posted on 01 May 2009
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
حضرت ابوھریرہ (رضی اللہ عنہ) روایت کرتے ہیں کہ
نبی کریم (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
میری اور مجھ سے پہلے کے تمام انبیاء کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے مکان بنایا اور اس میں ہر طرح کی زینت پیدا کی لیکن ایک کونے میں اینٹ کی جگہ چھوٹ گئی ۔ اب تمام لوگ آتے ہیں اور مکان کو چاروں طرف سے گھوم کر دیکھتے ہیں اور تعجب میں پڑ جاتے ہیں لیکن یہ بھی کہتے جاتے ہیں کہ یہاں پر ایک اینٹ کیوں نہ رکھی گئی ؟
تو مَیں ہی وہ اینٹ ہوں اور مَیں خاتم النبیین ہوں ۔
صحيح بخاري
كتاب المناقب
باب : خاتم النبيين صلى الله عليه وسلم
حدیث : 3575
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=126&SW=3575#SR1
Posted on 23 April 2009
حضرت نافع رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جب اہل مدینہ نے یزید بن معاویہ کی بیعت سے انکار کیا تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خادموں اور لڑکوں کو جمع کیا اور کہا کہ : میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ
قیامت کے دن ہر بدعہدی (عذر) کرنے والے کے لیے ایک جھنڈا (علامتی نشان) نصب کر دیا جائے گا ۔ ہم نے اس شخص (یزید بن معاویہ) کی بیعت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر کی ہے ، میری نظر میں اس سے زیادہ بدعہدی اور کوئی نہیں کہ کسی شخص سے اللہ اور اس کے رسول کے نام پر بیعت کی جائے اور پھر اس سے جنگ کی جائے ۔
اور دیکھو مدینہ والو ! تم میں سے جو کوئی یزید کی بیعت کو توڑے اور دوسرے کسی سے بیعت کرے تو مجھ میں اور اس میں کوئی تعلق نہیں رہا ، میں اس سے الگ ہوں۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : اذا قال عند قوم شيئا ثم خرج فقال بخلافه
حدیث : 7196
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7196#SR1
Posted on 23 April 2009
زبیر بن عدی نے بیان کیا کہ ہم انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے حجاج کے طرز عمل کی شکایت کی ، انہوں نے کہا :
صبر کرو کیونکہ تم پر جو دور بھی آتا ہے تو اس کے بعد آنے والا دور اس سے بھی برا ہوگا یہاں تک کہ تم اپنے رب سے جا ملو۔ میں نے یہ تمہارے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم) سے سنا ہے۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : لا ياتي زمان الا الذي بعده شر منه
حدیث : 7155
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7155#SR1
Posted on 23 April 2009
حضرت حذیفہ بن الیمان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ :
لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خیر کے بارے میں پوچھا کرتے تھے لیکن میں شر کے بارے میں پوچھتا تھا ، اس خوف سے کہ کہیں میری زندگی میں ہی شر نہ پیدا ہو جائے۔
میں نے پوچھا :
یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) ! ہم جاہلیت اور شر کے دور میں تھے پھر اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس خیر سے نوازا تو کیا اس خیر کے بعد پھر شر کا زمانہ ہوگا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ہاں۔
میں نے پوچھا : کیا اس شر کے بعد پھر خیر کا زمانہ آئے گا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، لیکن اس خیر میں کمزوری ہوگی۔
میں نے پوچھا کہ کمزوری کیا ہوگی؟
فرمایا کہ کچھ لوگ ہوں گے جو میرے طریقے کے خلاف چلیں گے ، ان کی بعض باتیں اچھی ہوں گی لیکن بعض میں تم برائی دیکھو گے۔
میں نے پوچھا : کیا پھر دورِ خیر کے بعد دورِ شر آئے گا؟
فرمایا کہ ہاں ! جہنم کی طرف بلانے والے دوزخ کے دروازے پر کھڑے ہوں گے ، جو ان کی بات مان لے گا وہ اس میں انہیں جھٹک دیں گے۔
میں نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم)! ان کی کچھ صفت بیان کیجئے۔
فرمایا کہ وہ ہمارے ہی جیسے ہوں گے اور ہماری ہی زبان عربی بولیں گے۔
میں نے پوچھا : پھر اگر میں نے وہ زمانہ پایا تو آپ مجھے ان کے بارے میں کیا حکم دیتے ہیں؟
آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے فرمایا :
تلزم جماعة المسلمين وإمامهم
مسلمانوں کی جماعت اور ان کے امام کے ساتھ رہنا۔
میں نے کہا :
فإن لم يكن لهم جماعة ولا إمام؟
اگر مسلمانوں کی جماعت نہ ہو اور نہ ان کا کوئی امام ہو؟
فرمایا : پھر ان تمام لوگوں سے الگ ہو رہو خواہ تمہیں جنگل میں جا کر درختوں کی جڑیں چبانی پڑیں یہاں تک کہ اسی حالت میں تمہاری موت آ جائے۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : كيف الامر اذا لم تكن جماعة
حدیث : 7173
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7173#SR1
Posted on 23 April 2009
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
قیامت سے پہلے ایسے دن آئیں گے جن میں ، جہالت چھا جائے گی ، علم (دین) اُٹھ جائے گا اور ہرج یعنی خون ریزی عام ہو جائے گی۔
صحيح بخاري
كتاب الفتن
باب : ظهور الفتن
حدیث : 7150
عربی متن : http://www.al-eman.com/hadeeth/viewchp.asp?BID=13&CID=198&SW=7150#SR1